بھٹکل،26؍جولائی (ایس او نیوز) جالی پٹن پنچایت کے رکن توفیق بیاری نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے الزام لگایا ہے کہ پنچایت کی طرف سے راجیو گاندھی آشریہ اسکیم کے تحت مستحق افراد کو گھر تقسیم کرنے کے معاملے میں کوتاہیاں کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ گھروں کی تعمیر کے لئے مستفیض ہونے والوں کو اجازت نامہ تقسیم کرنے کے پروگرام میں پنچایت افسران نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے ضلع ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں ایم ایل اے ، تحصیلدار اور پٹن پنچایت چیف آفیسر کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے۔
توفیق بیاری نے بتایا کہ جالی پٹن پنچایت کی طرف سے راجیو گاندھی رہائشی اسکیم کے پروگرام کو سرکاری پروگرام کے بجائے ذاتی پروگرام کی شکل میں منعقد کیا گیا اور روی نائک ، ہریش نائک وغیرہ کے سامنے کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے حقداروں کو اجازت نامہ تقسیم کیا گیا ۔ اس طرح پروٹوکول کی مکمل خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ پٹن پنچایت کے علم میں لائے بغیر باہری لوگوں نے اس پروگرام میں حصہ لیا ہے ۔ بی جے پی لیڈروں کو خوش کرنے کے لئے پٹن پنچایت کے صرف 4 وارڈوں سے ہی مستفیض ہونے والوں انتخاب کیا گیا ہے ۔ صرف ایک ہی وارڈ کو اسکیم سے 95 لاکھ روپے کا حصہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بھید بھاو کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں ۔ ایم ایل اے کو عام لوگوں کی ترقی کے بارے میں سوچنا چاہیے ، صرف اپنے قریبی لوگوں کی ترقی کے لئے سرگرم نہیں رہنا چاہیے ۔ ہم نے اس سلسلے میں ضلع انچارج وزیر اور ضلع ڈی سی کو تفصیلات کے ساتھ شکایت روانہ کی ہے ۔ ہم مطالبہ ہے کہ اس پروسیس کا جائزہ لیا جائے اور اس منصوبہ پر عمل پیرائی کا از سرنو خاکہ بنایا جائے۔
وارڈ نمبر 6 کے رکن پنچایت مصباح الحق کا کہنا تھا کہ راجیو گاندھی رہائشی اسکیم میں صرف چار وارڈوں کو اہمیت دی گئی ہے ۔ بقیہ وارڈس کا جائزہ ہی نہیں لیا گیا ۔ ایم ایل اے نے پٹن پنچایت کے افسران پر دباو ڈال کر اس طرح چار ہی وارڈس کے لوگوں میں اس اسکیم کے تمام گھر تقسیم کروائے ہیں ۔ ایم ایل اے کا یہ رویہ پوری طرح جانبدارانہ ہے ۔ یہ ان کا اپنے آپ کو مختار کُل سمجھنے والی سوچ کا مظہر ہے۔
اس موقع پر پٹن پنچایت کے منتخب اراکین رمیش ایم نائک ، رمیش گونڈا ، عرفان وسیم ، شبینہ بانو، شاہینہ شیخ ، ارشاد خان ، شہناز ، افشیا خاشیہ وغیرہ موجود تھے۔